ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / کاروار : شیرور ٹول گیٹ حادثہ : سوشیل میڈیا میں پھر شروع  ہوئی ملٹی اسپیشالیٹی ہاسپٹل کی ضرورت پر بحث 

کاروار : شیرور ٹول گیٹ حادثہ : سوشیل میڈیا میں پھر شروع  ہوئی ملٹی اسپیشالیٹی ہاسپٹل کی ضرورت پر بحث 

Sat, 23 Jul 2022 11:16:35    S.O. News Service

کاروار،23 ؍ جولائی (ایس او نیوز) شیرور ٹول گیٹ پر ایمبولینس سے ہوئے  بھیانک حادثہ کے بعد ضلع شمالی کینرا میں ایک جدید اور تمام سہولتوں سے آراستہ ملٹی اسپیشالیٹی ہاسپٹل کی ضرورت پر سوشیل میڈیا میں پھر سے گرما گرم بحث شروع  ہوگئی ہے ۔
    
پورے ضلع میں ایمرجنسی حالات میں جان بچانے کے لئے ضروری جدید سہولتوں سے آراستہ ایک بھی ہاسپٹل نہ ہونے کی شکایت برسوں سے چلی آ رہی ہے اور یہاں کے عوام اس کے نتائج بھگت رہے ہیں ۔ عوام کو اس ضمن میں کوئی راحت پہنچانے میں منتخب عوامی نمائندے، سیاسی لیڈران اور سرکاری افسران اب تک پوری طرح ناکام ہیں ۔
    
کسی بھی بڑے اور بھیانک حادثے کے بعد سوشیل میڈیا پر جدید ہاسپٹل کی مانگ لے کر وقتی طور پر بحث اور ٹرینڈ چلانا محض ایک معمول بن کر رہ گیا ہے ۔ اس پس منظر میں کوئی نتیجہ خیز اقدام نہیں کیا جاتا ۔ اس طرح جغرافیائی طور پر ایک وسیع اور قدرتی وسائل سے بھرپور ضلع شمالی کینرا طبی سہولتوں کے میدان میں اب تک پچھڑا ہی رہ گیا ہے ۔ لہٰذا کسی بھی بڑے حادثے یا طبی ایمرجنسی کی صورت میں عوام کو گوا ، ہبلی، دھارواڑ، بیلگاوی ، کنداپور، اڈپی ، منی پال اور منگلورو میں واقع بڑے اسپتالوں کا رخ کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں رہتا ۔ 
    
حالانکہ اب کاروار میڈیکل کالج سے وابستہ ہاسپٹل کے لئے کچھ ساز و سامان اور آلات فراہم کیے گئے ہیں ، لیکن وہاں پر دستیاب طبی سہولتوں کے تعلق سے عوام کو کچھ زیادہ واقفیت ہی نہیں ہے ۔ اس کے علاوہ وہاں پر دل ، گردے اور اعصاب سے متعلق  کئی پیچیدہ امراض کے لئے ماہر ڈاکٹر بھی موجود نہیں ہیں ۔ ایم آر آئی اسکیاننگ کی سہولت بھی نہیں ہے ۔ اس طرح بہتر علاج کے لئے ضلع سے باہر علاج کے لئے جانایہاں کے عوام کا مقدر بن کر رہ گیا ہے ۔ 
    
ایمنولینس ڈرائیور کے خلاف کیس :    شیرور ٹول گیٹ پر بے قابو ایمبولینس کی وجہ سے ہوئی  حادثہ میں چار لوگوں کی جان جو گئی تھی اس معاملے میں بیندور پولیس نے ایمبولینس ڈرائیور روشن روڈرگس  کے خلاف آئی پی سی کی دفعہ 304A (بے پروائی کے ذریعے موت کا سبب بننا) اور 279 (تیز رفتاری سے گاڑی چلانا)  کے تحت کیس درج  کر لیا ہے ۔ 
    
خیال رہے کہ حادثہ کی سی سی ٹی وی فوٹیج کے جو کلپس وائرل ہوئی ہیں ان میں سے ایک میں دیکھا جا سکتا ہے کہ جس راستے سے ایمبولینس کو گزرنا ہے وہاں پر بیریکیڈس کو ہٹایا جارہا ہے تو دوسری طرف ایک گائے کا بچھڑا بھی بیٹھا ہوا ہے اور اسے بھی وہاں سے بھگانے کی کوشش ہورہی ہے جس کے دوران کافی فاصلے پر ہی۔م ڈرائیور  عجلت میں اپنی تیز رفتار ایمبولینس گاڑی کو بریک لگانے کی کوشش کرتاہے جس کے نتیجہ میں ایمبولینس روڈ پر پھسل جاتی ہے اور ٹول بوتھ پر ہی الٹ کر خوفناک حادثہ کا شکار ہوجاتی ہے۔ 
    
اس پہلو کو سامنے رکھتے ہوئے محسوس کیا جا رہا ہے کہ اس حادثہ میں ٹول گیٹ اسٹاف کی بھی بڑی کوتاہی ہے ۔ اس بنیاد پر سوشیل میڈیا پر لوگ اس بات کا مطالبہ کر رہے ہیں کہ آئی آر بی انفراسٹرکچر اینڈ ڈیولپرس کے خلاف بھی کیس درج کیا جائے ۔     


Share: